Jun 30
:::::رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً ) :::::
::::: (١) پیدائش سے وفات تک کے مراحل :::::
::: نام و نسب ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ نسب یوں ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب ، بن مُرَّہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فِھر ( اِس فِھر کا لقب قُریش تھا اور قُریشی قبیلہ اِسی سے منسوب ہے ، اس کے آگے سلسلہ نسب یوں کہ فِھر ) بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خُزیمہ بن مدرکہ بن اِلیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ، جو کہ یقیناً اِسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں(صحیح سیرۃ النبویہ ) ،
والدہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا شجرہ نسب ::: آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرۃ بن قصی بن کلاب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی والدہ کا شجرہ نسب اُن کے والد عبداللہ کے ساتھ قصی بن کلاب پر جا ملتا ہے ،
::: تاریخ پیدائش ::: مؤرخین کی اکثریت کا کہنا ہے ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش مُبارک عام الفیل یعنی جِس سال ابرہہ ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اُس سال میں ہوئی ، اور تاریخ پیدائش آٹھ ربیع الاول ہے (مؤطا مالک) اور پیدائش کا دِن سوموار ہے (صحیح مُسلم)۔( مزید تفصیل کے لیے کتاب ،عید میلاد النبی اور ہم ، کا مطالعہ کیجیئے)۔
:::: بچپن و پرورش ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے والد عبداللہ اُن ؐ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ، عرب رواج کے مُطابق دودھ پلائی کے لیے بنی سعد بھیجا گیا اور حلیمہ سعدیہ نے اُنہیں دُودھ پِلایا ، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چار سال بسر فرمائے ، اور وہیں رہنے کے دوران اُن کے سینہ مُبارک کے کھولے اور دھوئے جانے کا واقعہ پیش آیا ، اِس واقعہ کے بعد حلیمہ سعدیہ اُن کو واپس مکہ لے آئیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم چھ سال کے ہوئے تو اُن کی والدہ اُن کو لے کر اُن کے ننیھال مدینہ روانہ ہوئیں اور راستہ میں الأبواء کے مُقام پر وفات پا گئیں ، پھر اُن کی خادمہ اُم ایمن نے اُن کی نگہداشت و پرورش کی اور اُن کے دادا عبدالمطلب نے کفالت کی، دو سال گذرنے کے بعد عبدالمطلب بھی فوت ہو گئے، اِس کے بعد عام تاریخی روایات کے مطابق اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے اُن کی کفالت و پرورش کی اور اپنی زندگی کے آخر تک اُن کے مدد گار رہے ،
::: پہلا نکاح ::: پچیس سال کی عُمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا نکاح اُم المومنین خدیجہ بنت الخویلد رضی اللہ عنہا سے ہوا ، جِن میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چار بیٹیاں اوردو بیٹے عطاء فرمائے ، خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچیس سال بسر فرمائے ۔
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ::: رقیہ ، زینب ، اُم کلثوم ، فاطمہ ، القاسم ، عبداللہ ، اِبراہیم ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، آخری بیٹے اِبراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔
: وحی کا آغاز ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کواللہ کی طرف سے تنہائی کی طرف مائل کیا گیا تو وہ غارِ حراء میں جانے لگے اور چالیس سال کی عُمر میں اُن پر اللہ نے وحی نازل فرمائی ( اقرَأ بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ ) ۔
::: دعوتِ اِسلام کا آغاز ::: اللہ کا حُکم ملنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ کی توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو سب سے پہلے اللہ کے دِین کو ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے قُبُول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دعوتِ توحید اور خدمتِ اِسلام میں مدد گار ہوئے اور اُن کے ذریعے عُثمان ، طلحہ ، اور سعد رضی اللہ عنہم اجمعینُ پہلے اِسلام لانے والوں میں سے ہوئے ، خواتین میں سب سے پہلے اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے اِسلام قُبُول کیا ، اور بچوں میں سے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہُ نے ، اُن کی عُمر اُس وقت آٹھ سال تھی ۔
::: چند ہی دِنوں میں ہر طرف سے اُنکی مُخالفت شروع ہو گئی اور سختیاں کی جانے لگِیں، یہاں تک سُمیہ اور اُنکے خاوندیاسر رضی اللہ عنہما کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا گیا ، یہ دونوں بالترتیب اِسلام کے پہلے شہید ہیں ، جب مُسلمانوں پر ظُلم و ستم بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت فرمائی تو اسی ٨٠ مَرد اور ایک خاتون نے ہجرت کی ،
::: نبوت کے دسویں سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا ابو طالب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بڑے مددگار تھے ، اِسلام قُبُول کیئے بغیر فوت ہو گئے ، اور تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کی دوسری بڑی مددگار و غم خوار اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا فوت ہو گئیں ،
::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم طائف تشریف لے گئے وہاں بھی دِین حق کی دعوت دینے کی پاداش میں ظُلم و جور کا سامنا کرنا پڑا ، واپس مکہ المکرمہ تشریف لائے اور مطعم بن عدی کی حفاظت میں ٹھہرے ۔
::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو سفر معراج کروایا گیا ، اور بُراق پر سوار کروا کر مسجد الحرام سے مسجد الاقصی لے جایا گیا جہاں اُنہوں نے سب نبیوں کی اِمامت کروائی ، اور وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے واپس آ کر اپنے اِس سفر کی خبر دِی تو سب نے انکی بات کو جُھٹلا دِیا ، صِرف ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے تصدیق کی اور اسی وجہ سے اُن کو ”’ الصدیق ”’ لقب دِیا گیا ،
::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے دِین کی دعوت کے لیے مختلف مواقع (میلوں ، اجتماعی بازاروں ، منڈیوں ) میں اکٹھے ہونے والے قبیلوں کے پاس تشریف لے جاتے تو ابو لھب اُن لوگوں کو کہتا کہ ، یہ جادُوگر ہے ، یہ جھوٹا ہے اِس کی بات مت سُننا ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ملنے اور اُن سے بات کرنے سے دُور رہتے ، یہاں تک نبوت کے گیارویں سال میں حج کے لیے آنے والے قبیلہ خزرج کے ایک وفد کی اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے مُلاقات ہوئی ، اور اللہ نے اُن لوگوں کے دِل اِسلام کے لیے کھول دیے اور وہ لوگ مُسلمان ہو گئے اور اِسلام کی دعوت لے کر مدینہ (جِس کا نام اُس وقت تک ”یثرب ”تھا) واپس چلے گئے اور اُن کی دعوت پر اللہ نے کئی اوروں کو مُسلمان بنا دِیا ،
::: نبوت کے بارہویں سال میں مدینہ سے مُسلمانوں کے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جِسے بیعتِ عُقبہ الا ُولیٰ یعنی پہلی بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے، اور اُن کے ساتھ اِسلام کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے سفیر” مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ ”جنہیں” مُصعب الخیر” بھی کہا جاتا ہے کو بھیجا گیا ، اور اُن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کئی کو جہنم سے نجات دی اور اپنے دِین میں داخل فرمایا ، ،
::: اگلے سال مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ کئی مسلمان مدینہ سے مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ، اِس بیعت کو بیعت عُقبہ الثانیہ یعنی دُوسری بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے ،( مُصعب الخیر رضی اللہ عنہُ کے بارے میں ”’ اپنے مثالی شخصیت چنیئے ”’ الرسالہ مُحرم ١٤٢٩ ہجری میں ملاحظہ فرمائیے )
:::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو مدینہ ہجرت کی اِجازت مرحمت فرمائی تو سب مُسلمان ہجرت کر گئے یہاں تک مکہ میں صِرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور علی رضی اللہ عنہما رہ گئے ،
::: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت عطاء فرمائی تو نبوت کے تیرہویں (١٣) سال میں ستائیس (٢٧) صفر کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ اپنا گھر چھوڑا اور مدینہ روانہ ہو گئے ،
::: اور بارہ ربیع الاول ، سوموار کے دِن ضُحیٰ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُباء میں داخل ہوئے ، انصار نے اپنے تمام اسلحہ کے ساتھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا اِستقبال کیا ،
::: انصار سے سب سے پہلا خطاب ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے سب سے پہلا خطاب فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا (یأیُّہا النَّاس أَفشُوا السَّلَامَ وَأَطعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّیلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ تَدخُلُوا الجَنَّۃَ بِسَلَامٍ )( اے لوگو سلام پھیلاؤ ، اور (بھوکوں کو) کھانا کِھلاؤ ، اور رشتہ داریوں کو جوڑے رکھو ، اور نماز پڑہو جب کہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ گے) سنن ابن ماجہ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ و السنّۃ فیھا / باب ١٧٤،
::: اور قُباء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر فرمائی ، اور پھر مدینہ تشریف لے گئے ،
::: مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سب پہلے مسجدِ نبوی تعمیر فرمائی اور مسجد کی مشرقی جانب اپنی بیگمات کے لیے کمرے بنوائے ،
::: مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ کروایا ، یہودیوں کے قبیلوں بنو النضیر ، بنو القِینُقاع ، اور بنو قُریظہ کے ساتھ معاہدے فرمائے اور اِن کو باقاعدہ لکھوایا ،
::: اسی سال شعبان میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے اور زکوۃِ فِطر (فِطرانہ ) فرض فرمایا ، اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خواہش کے مُطابق مسجد الحرام مکہ المکرمہ کو قبلہ مقرر فرمایا ،
::: معرکہ بدر ::: ہجرت کے دوسرے سال سترہ (١٧) رمضان ، جمعہ کے دِن معرکہ بدر واقع ہوا جِس میں اللہ تعالیٰ نے مُسلمانوں کو بہت واضح اور بڑی کامیابی عطا فرمائی ،
::: فتح مکہ المکرمہ ::: ہجرت کے بعد اللہ کی دِین کی سربلندی اور ایک اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے زُبانی ، مالی ، جسمانی جہاد کرتے کرتے اور ہر مُشقت برداشت کرتے کرتے ، ہجرت کے نویں سال میں ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اِیمان والوں کے دِل و آنکھیں ٹھنڈی فرماتے ہوئے ، اُنہیں مکہ المکرمہ عطاء فرمایا اور سب اِیمان والے اپنے قائدِ اعظم مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سربراہی میں ، سن آٹھ(٨)ہجری ، سترہ (١٧) رمضان ، بروز منگل ، صُبح کے وقت فاتح کی حیثیت سے مکہ المکرمہ میں داخل ہوئے ،
::: ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے ””’ جب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ المکرمہ ( فاتح کی حیثیت سے ) داخل ہوئے تو کعبہ کے اِرد گِرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن بتوں کو اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی لکڑی سے مارتے جاتے اور فرماتے جاتے ( جاء الحَقُّ وَزَہَقَ البَاطِلُ إِنَّ البَاطِلَ کان زَہُوقًا) ( اور حق آ گیا اور باطل ہلاک ہو گیا اور باطل ہلاک ہی ہونے والا تھا ) جاء الحَقُّ وما یُبدِءُ البَاطِلُ وما یُعِیدُ، حق آ گیا اور( اب) باطل ظاہر نہ ہو گا اور نہ ہی واپس پلٹے گا ””’ جب تک کعبہ میں موجود سب کی سب تصویریں مِٹا نہیں دِی گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے ،
::: فتح مکہ کے بعدوہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارد گرد کے علاقوں میں تمام بُتوں کو توڑنے اور جلانے کے لیے اپنے فوجی دستے ، اور اسلام کی دعوت کے لیے دعوتی وفود ارسال فرمائے ، اور چند دِن قیام فرمانے کے بعد واپس مدینہ المنورہ تشریف لے گئے ،
::: حجۃ الوِداع ::: سن دس ہجری ، چوبیس (٢٤) ذی القعدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم (جِن میں اہل مدینہ اور آس پاس والے سب ہی تھے )کے ساتھ حج کے لیے مکہ المکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ، اور حج پورا فرمانے کے بعد مدینہ المنورہ واپس تشریف لائے ،
::: اپنے رب کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز ::: حج سے واپسی کے بعد ، سن گیارہ (١١) ہجری ، صفر کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جِسمانی تکلیف شروع ہو گئی ، اور اپنی بیگمات سے اجازت طلب فرما کر کہ وہ اپنی بیماری کے دِن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گذاریں ، اپنی محبوبہ بیوی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر مُنتقل ہو گئے ،
::: ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ کو حُکم فرمایا کہ لوگوں کی اِمامت کریں ،
::: دِن بدِن بیماری بڑہتی گئی یہاں تک کہ، بروز سوموار ضُحیٰ ( دوپہر سے کچھ دیر پہلے ) رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ اپنے رب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے پاس بلا لیے گئے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی میّت مُبارک کو اُن کی قمیص میں ہی غُسل دِیا گیا اور غُسل دینے والے ، اُن کے چچا العباس ، العباس کے بیٹے الفضل اور قثم ، اور علی بن ابی طالب ، اُسامہ بن زید ، اوس بن خولی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے غُلام شقران رضی اللہ عنہم اجمعین تھے ، اور کیفیت یہ تھی کہ علی رضی اللہ عنہُ نے اُن صلی اللہ علیہ و علیہ و علی آلہ وسلم کے جِسم مُبارک اپنی گود میں بٹھا رکھا تھا اور اپنے سینے کی ٹیک دے رکھی تھی اور العباس اور اُن کے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے جسم مُبارک کو پلٹاتے غُسل دیتے ملتے اور علی بھی ، اور اُسامہ اور شقران پانی ڈالتے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ،
::: غسل کے بعد ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا ، جِن میں نہ قمیص تھی نہ عِمامہ ،
::: دفن کی جگہ کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کوئی فیصلہ نہ کر پا رہے تھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے فرمایا کہ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ (ما قُبِضَ نَبِیٌّ إلا دُفِنَ حَیثُ یُقبَضُ ) ( جہاں جِس نبی (کی رُوح ) کو قبض کیا جاتا ہے وہیں اُس کو دفن کیا جاتا ہے ) ، یہ سُن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی اُٹھائی اور اُسی جگہ پر قبر کھودی جِس میں لحد ( چھوٹی جانبی قبر ) بھی کھودی گئی ،
::: اِس تیاری کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم دس دس کے گروہ کی صورت میں حجرے میں داخل ہوتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑہتے ، مَردوں کے بعد خواتین نے اِسی طرح نماز پڑہی اور خواتین کے بعد بچوں نے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز جنازہ کی اِمامت کِسی نے بھی نہیں کروائی ، بلکہ سب نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ نماز پڑہی
::: ادئیگی نماز میں منگل کا سارادن گذر گیا ، اور اُس کے بعد بُدھ کی رات (یعنی منگل اور بُدھ کی درمیانی رات ) کا کافی حصہ بھی ، تقریباً آدھی رات کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دفن کر دِیا گیا ، اللہ کی وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ،
(وما مُحَمَّدٌ إلا رَسُولٌ قد خَلَت من قَبلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَاتَ أو قُتِلَ انقَلَبتُم علی أَعقَابِکُم وَمَن یَنقَلِب علی عَقِبَیہِ فَلَن یَضُرَّ اللَّہَ شیأا وَسَیَجزِی اللہ الشَّاکِرِینَ ) ( مُحمد بھی اُسی طرح ایک رسول ہیں جِس طرح اُن سے پہلے رسول ہو گذرے ہیں اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تُم لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جائے گا تو وہ اللہ کوئی ہر گِز کِسی چیز میں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ جلد ہی شکر کرنے والوں کو اجر دے گا ) اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ إبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
Jun 03
( عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے والوں کی چَھٹی دلیل )
عید میلاد منانے اور منوانے والے ہمارے یہ کلمہ گو بھائی ، سورت الصّف کی آیت نمبر ٦ کے متعلق کہتے ہیں کہ ”’ اِس میں عیسی علیہ السلام نے حضور کی تشریف آوری کی خوشخبری دی ہے اور ہم بھی اِسی طرح ”’ عید میلاد ”’ کی محفلوں میں حضور کی تشریف آوری کی خوشی کا احساس دِلاتے ہیں ۔
::::: جواب :::::
سورت الصّف کی آیت نمبر ٦ یہ ہے (((( وَاِذ قَالَ عِیسَی ابنُ مَریَمَ یَا بَنِی اِسرَائِیلَ اِنِّی رَسُولُ اللَّہِ اِلَیکُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَینَ یَدَیَّ مِنَ التَّورَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَاَتِی مِن بَعدِی اسمُہُ اََحمَدُ فَلَمَّا جَاءَ ہُم بِالبَیِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحرٌ مُّبِینٌ ))) (((اور جب عیسی نے بنی اِسرائیل کو کہا کہ اے بنی اِسرائیل میں تُم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں اور اُس چیز کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے توارات میں ہے اور خوشخبری دینے والا ہوں اُس رسول کی جو میرے بعد آنے والا ہے اور اُس کا نام اَحمد ہے ، ( پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد بنی اِسرائیل کے رویے کے بارے میں فرماتے ہیں ) اور پھر جب یہ رسول ( اَحمد صلی اللہ علیہ وسلم ) واضح نشانیاں لے کر اُن کے پاس آیا تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادُو ہے )))
“”" خوشی منانے “”" اور “”"خوشی ہونے”"” میں کیا فرق ہے اِس کے متعلق پہلے کچھ بات ہو چکی ہے ، اور “”"کِسی بات کی خوشخبری دینا “”" تو اِن دونوں سے بالکل ہٹ کر مختلف کیفیت والا معاملہ ہے ،
اور پھر اِس آیت میں بیان کردہ یہ واقعہ بھی ، بہت سے اور واقعات کی طرح سابقہ اَنبیاء علیھم السلام کے واقعات میں سے ایک ہے ، اور سابقہ اُمتوں یا اَنبیاء علیھم السلام کے واقعات کو دلیل بنانے کا حُکم کیا ہے ؟ اُس کا ذِکر بھی ہو چکا ہے ، اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ سابقہ اُمتوں یا اَنبیاء علیھم السلام کے ہر واقعہ کو دلیل بنایا جا سکتا ہے تو پھر بھی !!! عیسی علیہ السلام کی اِس بات میں کونسی دلیل ہے جِس کی بُنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی عید منائی جائے ؟ کیا اِس میں اِشارۃً بھی کہیں یہ ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خوشخبری کو اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد یا اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عید بنایا جائے ؟؟؟؟؟ اگر ایسا ہی تھا تو پھر وہی سوال دُہراتا ہوں کہ “”" کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ، تبع تابعین ، اُمت کے اِمام اور عامۃ المسلمین کِسی کو بھی صدیوں تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس آیت میں کس بات کی دلیل ہے اور اِس آیت کی روشنی میں کیا کرنا چاہیئے ؟؟؟؟؟ “”"
( عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے والوں کی ساتویں دلیل )
عید میلاد منوانے اور منانے والے میرے کلمہ گو بھائی ،اپنے طور پر اپنے اِس کام کو سُنّت کے مُطابق ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ ”’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ولادت کی خوشی پر روزہ رکھنا اور فرمانا اِس دِن یعنی پیر کو میری ولادت ہوئی ، خود ولادت پر خوشی منانا ہے ”’
::::: جواب :::::
اِن کی اِس بات کا ایک حصہ تو صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دِن پیر یعنی سوموار ہے ، اور وہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کا روزہ رکھا کرتے تھے ، اِس سچ سے اِنکار کفر ہے کیونکہ صحیح مُسلم کی حدیث ١١٦٢ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ملتا ہے کہ ( اِس دِن میں پیدا ہوا تھا اور اِس دِن مُجھ پر وحی اُتاری گئی تھی ) یا یہ کہا کہ ( اِس دِن مجھے مبعوث کیا گیا تھا ) لیکن !!! یہ کہاں ہے کہ اِس دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے یا کِسی ایک صحابی نے ، یا تابعین نے یا تبع تابعین نے ، یا اُمت کے ائمہ میں سے کِسی نے بھی کوئی ”’ عید ”’ منائی ،
اور یہ کہاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس دِن روزہ رکھنے کی وجہ اُن کی پیدائش کی خوشی ہے ”’ عید میلاد ”’ منوانے والوں کی طرف سے خلافَ حقیقت بات کیوں کی جاتی ہے اِسکا فیصلہ اِنشاء اللہ آپ لوگ خود بخوبی کر لیں گے ، جب آپ صاحبان کو پتہ چلے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس دِن یعنی پیر کا روزہ کیوں رکھا کرتے تھے ذرا توجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ چند اِرشادات ملاحظہ فرمائیے :::::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے د ِن کے بارے میں فرمایا کہ :::
( پیر اور جمعرات کے دِنوں میں اللہ کے سامنے بندوں کے اعمال پیش کئیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اُس اِیمان والے کی مغفرت کر دیتا ہے جِس نے اللہ کے ساتھ کِسی کو شریک نہ کیا ہو ، سوائے اُنکے جو آپس میں بغض رکھتے ہوں تو کہا جاتا ہے ( یعنی اِنکے معاملے میں کہا جاتا ہے ) اِنکو مہلت دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں ) صحیح مسلم ، صحیح ابنِ حبان ، مجمع الزوائد ۔
اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں تو اُنہوں نے فرمایا ( پیر اور جمعرات کے دِن اللہ بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے سوائے ایک دوسرے کو چھوڑ د ینے والوں کے ( یعنی ناراضگی کی وجہ سے ایک دوسرے کو چھوڑ دینے والے تو ) اُن چھوڑ دینے والے کےلیے کہا جاتا ہے کہ اِنہیں صلح کرنے تک کی مہلت دی جائے ) سُنن الدارمی /حدیث ١٧٥٠ ، مصباح الزُجاجہ /حدیث ٦٢٩ ۔ اِمام احمد الکنانی نے اِس حدیث کو صحیح قرار دِیا ہے ۔
اوپر بیان کردہ احادیث کے بعد کِسی بھی صاحبِ عقل کو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دِن کا روزہ اپنی پیدائش کی خوشی میں نہیں رکھا بلکہ اِس دِن اللہ کے سامنے بندوں کے اعمال پیش ہونے کی وجہ سے رکھا ہے ۔
اگر پیر کے دِن نفلی روزہ رکھنے کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوتا تو کم از کم وہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کی ترغیب ہی دیتے ، مندرجہ بالا دو احادیث کے بعد یہ حدیث بھی بغور ملاحظہ فرمائیے ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حدیث ١١٦٢ /کتاب الصیام / باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام مِن کلِّ شہر میں ابی قتادہ رضی اللہ عنہُ سے روایت کیا کہ ”’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ( تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غصے میں دیکھ کر ) عُمر ( رضی اللہ عنہ ُ ) نے کہا [[[ ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اور اِسلام کے دین ہونے پر اور محمد کے رسول ہونے پر ، اور ہماری بیعت ، بیعت ہے ( یعنی جو ہم نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے وہ سچی پکی بیعت ہے) ]]]، پھر ابی قتادہ رضی اللہ عنہ ُ کہتے ہیں کہ ”’ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام الدہر ( ہمیشہ مستقل روزے میں رہنا ) کے بارے میں پوچھا گیا ”’ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا( لا صام و لا اَفطر ) ( ( ایسا کرنے والے نے ) نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا ) ، پھر ابی قتادہ رضی اللہ عنہ ُ کہتے ہیں کہ ”’ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے دو دِن روزہ رکھنے اور ایک دِن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( و مِن یُطیقُ ذَلِکَ ؟ ایسا کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے؟ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دِن روزہ رکھنے اور دو دِن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( لیتَ ان اللہ قَوَّانا لَذَلِکَ ؟ کاش اللہ ہمیں ایسا کرنے کی طاقت دے دے ) پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دِن روزہ رکھنے اور دو ایک افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( ذَلِکَ صَومُ اَخِی داؤد (علیہ السلام ) یہ میرے بھائی داؤد (علیہ السلام ) کا روزہ ہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر (سوموار) کے دِن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( ذَلِکَ یَومٌ ولدت ُ فِیہِ و یُومٌ بُعِثت ُ فِیہِ ، اِس دِن میری پیدائش ہوئی اور اِس دِن میری بعثت ہوئی (یعنی مجھے رسالت دی گئی ) ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( صومُ ثلاثۃِ مِن کُلِّ شھر ، و رمضانَ اِلیٰ رمضانِ صومُ الدہر،رمضان سے رمضان تک ہر ماہ میں سے تین دِن روزے رکھنا ہمیشہ مسلسل روزہ رکھنے کے جیسا ہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفات کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا( یُکَفِّر ُ السَّنۃَ الماضِیۃَ و الباقِیۃَ ، ایک پچھلے سال اور رواں سال کے گُناہ معاف کرواتا ہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس محرم کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ( یُکَفِّر ُ السَّنۃَ الماضِیۃَ ، پچھلے ایک سال کے گُناہ معاف کرواتا ہے )
اِس حدیث کے اِلفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف نفلی روزں کے بارے میں پوچھا گیا اور اُنہوں نے اُسکی وجہ بتائی اور آخر میں یہ فرمایا کہ ( رمضان سے رمضان تک ہر ماہ میں سے تین دِن روزے رکھنا ہمیشہ مسلسل روزہ رکھنے کے جیسا ہے ) ، یعنی سوموار کا روزہ رکھنے کی کوئی ترغیب بھی نہیں دِی ، کوئی اضافی ثواب نہیں بتایا ، جیسا کہ عرفات اور عاشوراء کے روزوں کا فائدہ بیان کرنے کے ذریعے اُن کی ترغیب دی ہے ، تو ، اِس حدیث میں زیادہ سے زیادہ سوموار کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ملتا ہے ، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش منانے کا ،
میلاد منوانے اور منانے والے میرے کملہ گو بھائیوں کے بیان کردہ فلسفے کے مُطابق ہونا تو یہ چاہیئے کہ یہ سب یعنی اِن کے پیر اور مرید سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت کے مُطابق ہر سوموار کا روزہ رکھیں اور خاص طور پر جِس دِن کو اِنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دِن سمجھ رکھا ہے اُس دِن حلال و حرام کی تمیز ختم کر کے ڈھول ڈھمکا ، رقص وقوالی اور گانوں کے راگ لگا لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذِکر کرنے کی بجائے اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے کی بجائے ، اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر چندوں کے ذریعے ہر کس و ناکس کا مال کھانے کی بجائے روزہ رکھیں اور پھرلوگوں کے مال پر نہیں بلکہ ا پنے ہاتھ کی حلال کمائی سے اُسے افطار کریں ، لیکن !!! ایسا نہیں ہوتا کیونکہ یہ نفس پر بھاری ہے اور پہلے کام نفس کو محبوب ہیں ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر وہ کام پورے کیے جاتے ہیں جِن کے ذریعے ذاتی خواہشات پوری ہوں ۔
( عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے والوں کی آٹھویں دلیل )
میلاد منوانے اور منانے والے میرے کلمہ گو بھائی کہتے ہیں کہ ”’ ابو لہب نے حضور کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کِیا اور اُس کے اِس عمل کی وجہ سے اُسے جہنم میں پانی ملتا ہے ، پس اِس سے ثابت ہوا کہ حضور کی پیدائش کی خوشی منانا باعثِ ثواب ہے ”’
::::: جواب :::::
یہ بات صحیح البُخاری ، کتاب النکاح کے باب نمبر ٢٠ کی تیسری حدیث کے ساتھ بیان کی گئی ہے ، اور یہ حدیث نہیں بلکہ عروہ بن الزبیر کا قول ہے کہ ”’ و ثُویبَۃٌ لِابی لھبٍ و کان ابو لھبٍ اعتقھا فارضعت النبيّ صلی اللَّہ عَلیہِ وَسلم ، فلما مات ابو لھب اُرِیَہُ بعضُ اھلہِ بِشرِّ حِیبۃٍ ، قال لہ ُ : ما ذا لّقَیت َ ؟ قال ابو لھب : لم القَ بعدَکُم ، غیرَ انی سُقِیتُ فی ھذہ بعتاقتی ثُویبَۃَ ”’
اور اِس بات کو اِمام البیہقی نے سُنن الکبریٰ میں ، کتاب النکاح کے باب ”’ ما جاء فی قول اللّہ تعالیٰ و اَن تجمعوا بین الاختین ”’ میں اِلفاظ کے معمولی سے فرق سے نقل کِیا ہے اُن کے نقل کردہ اِلفاظ یہ ہیں ”’ لم القَ بعدَکُم رخاءَ ، غیرَ انی سُقِیتُ فی ھذہ مِنی بعتاقتی ثُویبَۃَ و اشارَ اِلیِ النقیرۃ التی بین الابھام و التی تلیھا مِن الاصابع ”’
اور اِمام ابو عوانہ نے اپنی مسند میں ” مبتداء کتاب النکاح و ما یشاکلہُ ”’ کے باب ”’ تحریم الجمع بین الاختین و تحریم نکاح الربیبۃ التی ہی تربیۃ الرجل و تحریم الجمع بین المراۃ و ابنتھا ”’ میں اِن اِلفاظ کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ”’ لم القَ بعدَکُم راحۃ ، غیرَ انی سُقِیتُ فی ھذہ النقیرۃ التی بین الابھام والتی تلیھا بعتقی ثُویبَۃَ ”’
سب سے پہلی اور بُنیادی بات یہ ہے کہ یہ بات حدیث نہیں ، بلکہ ایک تابعی کی بات ہے جو اِمام بُخاری نے بلا سند بیان کی ہے ، ذرا غور فرمائیے کہ اِس بات میں سے زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابو لہب کے عذاب میں اپنی باندی آزاد کرنے کی نیکی کی وجہ سے کچھ نرمی کر دی ، جیسا کہ ابو طالب کے عذاب میں کمی کر دی گئی ،
اِس بات سے کوئی بھی اِنکار نہیں کر سکتا کہ ابو لہب کافر تھا ، اور کفر کی حالت میں ہی مرا ، اور جب اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشخبری دینے والی اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کِیا تھا تو اِس لیے نہیں کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ہیں ، بلکہ اِس خوشی میں کِیا تھا اُس کے فوت شُدہ بھائی عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا پیدا ہوا ہے ، اگر اُسے اپنے بھتیجے کے رسول اللہ ہونے کی خوشی ہوتی تو اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد یہ ابو لہب پہلے اِیمان لانے والوں میں ہوتا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے مخالفین میں ،
اِمام ابن حجر العسقلانی نے اِس بات کی شرح کرتے ہوئے ”’ فتح الباری شرح صحیح البُخاری ”’ میں لکھا ”’ السہیلی نے لکھا کہ یہ خواب عباس بن عبدالمطلب ( رضی اللہ عنہُ ) نے دیکھا تھا ”’ پھر چند سطر کے بعد لکھا ”’ یہ خبر مرُسل ہے یعنی عروہ بن الزبیر نے یہ بیان نہیں کِیا کہ اُنہوں نے یہ بات کِس سے سُنی ، اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ خبر مُرسل نہیں ، پھر بھی اِس میں بیان کِیا گیا واقعہ ایک خواب ہے اور جِس نے یہ خواب دیکھا ، خواب دیکھنے کے وقت وہ کافر ت
Jun 03
::::::: عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ::: شرعی حیثیت :::::::
، قُران و صحیح سنّت ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال ، تابعین تبع تابعین ، اُمت کے اِماموں رحہم اللہ تعالیٰ جمعیا ً کے اقوال و افعال کی روشنی میں اور تاریخ کا مطالعہ کرتے کرتے یہاں تک کی بات سے یہ واضح ہو جاتا کہ ،”’ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ”’ منوانے اور منانے والے بھائیوں کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جِس کے ذریعے وہ اپنے اِس کام کو قُران اور سنّت میں سے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال میں سے ، یا کِسی ایک بھی صحابی رضی اللہ عنہُ کے کِسی قول و فعل سے ، یا اُمت کے کِسی عالم کے قول و فعل سے ثابت کر سکیں ، بلکہ پوری اُمت میں تقریباً ساڑھے تین سو سال تک کِسی عید میلاد کی کوئی خبر تو کیا ، بات تو کیا ، کہانی بھی نہیں ملتی ، اور پھر جو خبر ملتی ہے تو وہ بھی ایک ایسے گمراہ فرقے کے ایک حکمران کی بارے میں جِسے آج تک اہل سنّت و الجماعت کے تمام مکاتب فکر متفقہ طور پر خارج از اِسلام جانتے ہیں ، یعنی فاطمی فرقہ جسے اب اِسماعیلی کہا جاتا ہے ،
پس یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے دِن کو کِسی طور پر بھی ”’ تہوار ، عید ”’ بنانا دِین میں نیا کام ہے کیونکہ ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت میں ، نہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سُنّت میں ، بلکہ یہ کام سراسر خِلافِ سُنّت ہے اور جو بھی عقیدہ ، عِبادت ، دِین سے متعلقہ کام ، سُنّت کے خِلاف ہو ، سُنّت میں اُس کی کوئی دلیل نہ ملتی ہو ، اُسے ہی بدعت کہا جاتا ہے ، اور ہر بدعت گُمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں جانے والی ہے ، کِسی بدعت کو اچھا اور کِسی بدعت کو بُرا کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے :::
( فَاِنَّ مَن یَعِیشُ مِنکُم فَسیَری اِختلافاًً کثیراً ، فَعَلِیکُم بِسُنّتِی وَ سُنَّۃ الخُلفاء الراشدینَ المھدیَّینَ ، عضُّوا علیھا بالنَواجذِ ، وَ اِیَّاکُم وَ مُحدَثاتِ الاَمُور، فَاِنَّ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ ) ( پس تُم میںسے جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا ، تو تُم پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خلفاء کی سُنّت فرض ہے اُسے دانتوں سے پکڑے رکھو ، اور نئے کاموں سے خبردار ، بے شک ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی آگ میں ہے ) صحیح ابن حبان /کتاب الرقاق، صحیح ابن خُزیمہ /حدیث ١٧٨٥/کتاب الجمعہ /باب٥١،سُنن ابن ماجہ /حدیث ٤٢/باب ٦، مُستدرک الحاکم حدیث ٣٢٩ ، ٣٣١ ۔
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ::::::
( مَن عَمِلَ عملاً لَیس علیہِ امرُنا فھو رد )( جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے معاملے کے مُطابق نہیں ہے وہ رد ہے ) صحیح البُخاری /کتاب بد ء الوحی / باب ٢٠ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٧١٨ ،
یعنی ہر وہ کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں کے مُطابق نہیں وہ کام کرنے والے پر مردود ہے ، اور عید میلاد منوانے اور منانے والے میرے کلمہ گو بھائیوں ، بہنوں کے ہوا ئی ، فلسفانہ دلائل کی کوئی دلیل نہیں ، نہ قرآن میں ، نہ سُنّت میں ، نہ صحابہ کے قول و فعل میں ہے ، قران کی جِن آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جِن احادیث اور صحابہ کے جِن اقوال کو اپنے طور پر اپنی تفسیر اور اپنی شرح میں ڈھال کر ، دلیل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اُن کا جواب گذر چُکا ہے ، اور مزید یہ کہ نہ ہی ہم اہلِ سُنّت و الجماعت کے کسی بھی اِمام کی طرف سے اِس کام یعنی عید میلاد منانے کا کوئی ذِکر وارد ہوا ہے ۔
اور تو آپ چھوڑئیے ، اُن کو دیکھیئے ، جِن کو کچھ مُسلمان اِما م اعظم کہتے ہیں ، جب کہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گُستاخی ہے کہ اُن کی بجائے کِسی اور کو اِمام اعظم کہا جائے ، اور ایسا کرنے والے میرے وہ کلمہ گو بھائی ہیں جو محبتِ و عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واشگاف دعویٰ دار ہیں ، بہر حال اِس وقت ہمارا موضوع یہ نہیں ہے ،
میں بات کر رہا تھا کہ اِمام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیہ رحمۃُ اللہ کی طرف دیکھیئے کیا اُن کو بھی قُرآن کی اِن آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر کو روزہ رکھنے کی ، عباس رضی اللہ عنہُ کے ابو جھل کے بارے میں دیکھے ہوئے خواب کی ، زمانے اور وقت کے مُطابق محبت و عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندز اظہار میں تبدیلی کرنے کی وہ وجہ اور ضرورت سمجھ نہیں آئی جو عید میلاد منوانے اور منانے والے اِن صاحبان جو کہ اِمام ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کے پیروکارو ہیں ، کو آ گئی ، جبکہ ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ نہ تو حکومت کرنے والوں میں سے تھے اور نہ ہی جہاد کرنے والوں میں کہ اِن کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے “”" میلاد “”" کی طرف توجہ نہ فرما سکے ، جیسا کہ “”" میلاد “”" منوانے اور منانے والے بھائی فلسفہ پیش کرتے ہیں ؟؟؟اور اگراِمام ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کو بھی وہی سمجھ آئی تھی اور وہی ضرورت محسوس ہوئی تھی تو انہوں نے میلاد کیوں نہیں منائی ؟؟؟ یا کم از کم کوئی بات ہی “”" میلاد “”" کے بارے میں کہی ہوتی ؟؟؟ اور اگر اُنہیں سمجھ نہیں آئی تھی تو پھر اُن کی اِمامیت کیسی ؟؟؟ پھر تو جِن کو اُن کے بعد یہ سمجھ آئی وہ اُن سے بڑے اِمام ہوئے ؟؟؟ یعنی یہ شاگرد یا مُرید بھائی اپنے ہی اِمام کے اِمام ہو گئے ؟؟؟ اِنّا لِلَّہِ و اِنَّا اِلِیہِ رَاجِعُونَ ۔
اللہ امام ابو حنیفہ پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے ، چاروں اِماموں میں سے سب سے زیادہ مظلوم اِمام ہیں ، کہ اُن کے اپنے ہی پیروکار اُن سے اُن کی فقہ کے نام پر وہ کچھ منسوب کرتے ہیں جو اُن جیسے متقی اور صالح اِمام کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ،
::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( فَاِنَّ اصدَقَ الحَدِیثِ کِتَاب اللَّہِ ، وَ خیرَ الھُدٰی ھُدٰی محمَّدٍ ، وَ شَرَّ الامورِ محدَثَاتھَا ، وَ کَلَّ محدَثَۃٍ بِدَعَۃٌ، وَ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ) ( پس بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھی ہدایت محمد کی ہدایت ہے ، اور کاموں میں سب سے بُرا کام نیا بنایا ہوا ہے ، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ) صحیح مُسلم / حدیث ٨٦٧،
::::::: ایک اور روایت جس میں مزید فرمایا کہ (ہر گمراہی جہنم میں جانے والی ہے ) کا ذکر ابھی تھوڑی دیر پہلے کر چکا ہوں
::::::: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَن احدث فی امرنا ھذا ما لیس فیہ فھو رد ) ( جِس نے ہمارے اِس کام ( یعنی دِین ) میں ایسا نیا کام بنایا جو اِس میں نہیں ہے تو وہ کام رد ہے ) صحیح البخُاری / حدیث ٢٦٩٧/کتاب الصلح /باب٥۔
غور فرمائیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہر وہ کام مردود قرار دِیا گیا ہے جو دِین میں نہیں ہے ، کچھ لوگ کہتے ہیں ::: جو کام دِین میں سے نہیں وہ بدعت ہو سکتا ہے ، اور فلان فلان کام تو دِین میں سے ہیں ، جیسے ذِکر کرنا ، عید منانا وغیرہ :::
جی ہاں یہ کام دِین میں سے ہیں ، لیکن جب یہ کام ایسے طور طریقوں پر کیے جائیں جو دِین میں نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مذکورہ بالا حُکم لاگو ہوتا ہے ، ”’ دِین میں سے ہونا ”’ اور ”’ دِین میں ہونا ”’ دو مختلف کیفیات ہیں ، کِسی کام ( قولی و فعلی ، ظاہری و باطنی ، عقیدہ ، اور معاملات کے نمٹانے کے احکام وغیرہ )کا دِین میں سے ہونا ، یعنی اُس کام کی اصل دِین میں “”" جائز “”" ہونا ہے ، اور کِسی کام کا دِین میں ہونا ، اُس کام کو کرنے کی کیفیت کا دِین میں ثابت ہونا ہے ،
مَن گھڑت ، خود ساختہ طریقے اور کیفیات دِین میں سے نہیں ہیں ، ذِکر و اذکار ، عید ، صلاۃ و سلام ، یہ سب دِین میں تو ہیں ، لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ”’ اِن کو کرنے کی کون سی کیفیت اور ہیئت دِین میں ہے ؟؟؟”’
قُران کی آیات کا اپنی طرف سے تفسیر و شرح کرنا ، ، صحیح ثابت شدہ سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کی موافقت کے بغیر اپنی طرف سے معنی و مفہوم نکالنا اور اُس کو بُنیاد بنا کر عِبادات و عقائد اخذ کرنے سے کوئی کام عبادت اور کوئی قول و سوچ عقیدہ نہیں بن سکتے ، نہ ہی کچھ حلال و حرام کیا جا سکتا ہے ، نہ ہی کچھ جائز و ناجائز کیا جا سکتا ہے ، نہ ہی کسی کو کافر و مشرک و بدعتی قرار دیا جا سکتا ہے ، اور نہ ہی ایسے بلا دلیل اور ذاتی اراء و فہم پر مبنی اقوال و افعال و اَفکار دِین کا جُز قرار پا سکتے ہیں ، وہ یقینا دِین میں نئی چیز ہی قرار پائیں گے ، جِسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعت قرار فرمایا ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا اِن فرامین کے بعد دِین میں کِسی بھی نئے کام یعنی بدعت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ، ”’ ہر ”’ بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گمراہی قرار دِیا ہے ، کِسی بدعت کو اچھا یعنی بدعتِ حسنہ کہہ کر جائز کرنے کی کو ئی گنجائش نہیں ، اور میں کہتا ہوں کہ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سئیہ کی تقسیم بذات خود ایک بدعت ہے ۔
اِمام الالکائی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا کہ :::
( کُلّ بدعۃ ضلالۃ و اِن رآھا الناسُ حسنہ ) ( ہر بدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اُسے اچھا ہی سمجھتے ہوں ) ،صحابہ ر ضی اللہ عنہم سے اِس موضوع پر بہت سے فرامین صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں ، اِنشاء اللہ کبھی اُن کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی سعی کروں گا ،
اِمام الشاطبی رحمہُ اللہ نے اپنی معروف کتاب ”’ الاعتصام ”’ میں ابن ماجشون سے نقل کیا ہے کہ اُنہوں نے اِمام مالک علیہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ”’ جِس نے اِسلام میں نیا کام گھڑا اور ( اُس کام کو ) اچھی بدعت سمجھا تو گویا اُس نے یہ خیال کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت میں خیانت کی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ( الیَومَ اَ کمَلت لَکُم دِینکُم) ( آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مُکمل کر دِیا ) لہذا جو اُس دِن ( یعنی جِس دِن آیت نازل ہوئی ) دین نہیں تھا وہ آج دِین نہیں ہو سکتا ”’
بدعت کے بارے میں کچھ بات دسویں دلیل کے جواب میں کی جا چکی ہے ۔
:::::: آخری بات :::::::
محترم قا رئین ؛ اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جِن کو سمجھ آنا ہو گی وہ اب تک یہ سمجھ چکے ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے دِن یا کِسی بھی اور خاص واقعہ رونما ہونے کے دِن کو کِسی بھی طور پر ”’ تہوار ، عید ”’ بنا کر منانا اِسلامی طریقہ نہیں ، اور جب یہ اِسلامی طریقہ نہیں تو آپ خود ہی بتائیے یہ کام دِین کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ اور اگر دِین کا حصہ نہیں اور یقینا نہیں تو اِس پر اجر و ثواب کہاں ؟؟؟ بلکہ دِین سمجھ کر کرنے والے پر عتاب ضرور ہو گا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف اور صریح احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے ، جیسا کہ جلیل القدر تابعی سعید بن المُسیب رحمہُ اللہ کا فتویٰ ہے ،
جو کہ اِمام البیہقی نے اپنی ”’سنن الکبری ”’ میں صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا کہ ”’ سعید بن المُسیب نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میں خوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید نے اُسے اِس کام سے منع کیا ،
اُس آدمی نے کہا ::: یا ابَا مُحَمَّدٍ یُعَذِّبُنِی اللَّہ ُ عَلٰی الصَّلَاۃِ اے ابا محمد کیا اللہ مجھے نماز پر عذاب دے گا ؟ ::: تو سعید رحمۃُ اللہ علیہ نے جواب دِیا ::: لَا وَلَکِن یُعَذِّبُکَ اللہ بِخِلَافِ السُّنَّۃِ ”’ نہیں لیکن تمہیں سُنّت کی خِلاف ورزی پر عذاب دے گا ”’ ::: سنن البیہقی الکبریٰ / حدیث٤٢٣٤ /کتاب الصلاۃ /باب ٥٩٣ من لم یصل بعد الفجر الا رکعتی الفجر ثم بادر بالفرض ، کی آخری روایت ، اِمام الالبانی نے “اِرواء الغلیل جلد 2 ، صفحہ 234 ” میں اِس رواہت کو صحیح قرار دِیا ،
قارئین کرام ، یہ میرا نہیں ، دو چار سو سال پہلے بنے ہوئے کسی “”" گستاخ فرقے “”" کا نہیں ، ایک تابعی کا فتویٰ ہے ، اِس پر غور فرمائیے ، اور بار بار فرمائیے ، اتباع سُنّت ، محبت و عظمتِ رسول کے اظہار کا صحیح اور ہمیشہ سے انداز ہے نا کہ کچھ اور ،
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سُنّت کو پہچاننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر اُس کام کو جاننے اور پہچاننے اور اُس سے بچنے اور کم از کم اُس پر اِنکار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جو سُنّت کے خِلاف ہے ۔ اور محبت اور عظمتَ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ انداز و اطوار اپنانے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے جو مطلوب و مقصود ہیں ، یعنی سنـت کے مطابق ہیں
میں نے بدعت کے موضوع کو وقت اور جگہ کی کمی کی وجہ سے طویل نہیں ہونے دِیا ، اگر کِسی پڑہنے والے کے دِل و دِماغ میں کوئی سوال یا شک ہو تو میری درخواست ہے کہ وہ خاموش نہ رہے بلکہ اپنے سوال یا شک کا اظہار کرے ، تا کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اُس کا شک رفع کیا جائے ۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ثبوت میں ، پہلے ذکر کی گئی باتوں کے علاوہ ، اگر کسی کے پاس ، قُران ، صحیح ثابت شدہ سُنّت ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال میں سے کوئی ثبوت ہو تو عنایت فرمائے ، اِن مندرجہ بالا تین کسوٹیوں ، پر جو بات پوری نہیں اترتی وہ “”" اہل سُنّت و الجماعت “”" کے لیے قابل قبول نہیں، اور یہ ہی منہج اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے ،
حالیہ تبصرے